دنیا کے تمام آزاد لوگوں سے ایک سوال کی ترویج بِایِ ذَنب قُتِلَت؟ ؟ ؟ ؟ ؟

السلام علی الطفل الرضیع ۔ ۔ ۔

 

طلوع افرین اُس خورشید حسینی کا نام ہے جو علی اصغر نامی ستارہ کے غروب سے طلوع ہوا ہے۔

یہ وہی ناحق بہایا جانے والا خون ہے جو محبان اہلبیت کی رگوں میں جاری ہے، وہ خون جس نے مظلومیت حسین اور واقعہ کربلا پر اپنے خون سے مہر ثبت کر دی ہے۔ یہ سب انہی ہستیوں کی مدد ہے جس کی بدولت ہم اس قابل ہوے ہیں کہ بین الاقوامی طور پر اس مراسم عزاداری حضرت علی اصغر علیہ السلام برگزار کر سکیں۔
سال اول:۔( 2004       امام بارگاہ مہدیہ تہران۔

جب ھم نے اس مراسم عزاداری کے ناقابل تصور عالمی اثرات دیکھے۔

سال دوم: ( 2005    امام بارگاہ مہدیہ تہران، قم، مشہدمقدس، منامہ (بحرین)، لندن(انگلینڈ) اور کربلا، نجف اور حلہ (عراق)

گویا ششماھہ طفل حسین عالمی فضا کو معطر کر گیا۔

سال سوم:۔ ( 2006 )    امام بارگاہ مہدیہ تہران، مشہد مقدس اور ایران کے دیگر 32 شہر اور اسی طرح عراق کے 13 شہروں اور دوسرے ملکوں میں مثلا ہندوستان، بحرین، شام، پاکستان اور انگلینڈ میں منعقد ہوئی۔
اور اب اس سال ایک اور عالمی حماسہ کی تخلیق کے لیے شیر خوار بچوںکے لیے ماوں کے ساتھ طفل رضیع سے بیعت کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
صدائے یا حسین اور دعائے ظہور امام (عج) کی فریاد ایک ہی وقت میں ایران کے 40 شہروں اور 10 مختلف شہروں میں بلند ہے۔